اولادکی پرورش میں (آٹھ نصیحتیں)
❶ ماں باپ کے آپس کے جھگڑے کا بچے پر برا اثر پڑتا ہے یا تو وہ دونوں سے باغی ہو جاتے ہیں یا ایک کو حق پر مان کر دوسرے سے متنفر ہوجاتے ہیں یا خود بھی ان عادتوں کو اپنے اندر پیدا کرلیتے ہیں، اس لئے ماں باپ کو آپس میں مثالی محبت کے ساتھ رہنا چاہیے۔
❷ بعض عورتیں بچوں سے زور زور سے بولتی یا زور سے ڈانٹتی ہیں، یہ طریقہ غلط ہے۔
❸ ماں باپ خود ایک دوسرے کو گالی نہ دیں ورنہ بچے سیکھیں گے۔
❹ بعض بڑے ایسے ہیں کہ وہ بچوں سے فحش (گندہ) مذاق کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ عادت خراب ہے اس سے بچہ بے شرم ہو جاتا ہے۔
❺ بعض لوگ بچوں سے ان کے بڑوں کی نقلیں کراتے ہیں کہ والد کیسے کھانا کھاتے ہیں ، کیسے بیڑی پیتے ہیں کیسے چلتے ہیں ، یہ بات بھی غلط ہے، اس سے بچہ مسخرہ بن جاتا ہے، بعض بڑے ہی بچوں کو بگاڑتے ہیں وہ خود اصولِ پرورش سے واقف نہیں ہوتے۔
❻ اسی طرح ماں باپ، بچے کے چچا ، تایا، نانا، ماموں وغیرہ رشتے داروں کو گھر میں برا بھلا یا تحقیر آمیز انداز میں کچھ نہ کہیں، اس لئے کہ ماں باپ تو آپس کی رنجش کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں مگر بچے جب سنتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ تنہائی میں ان کو ایسا کہتے ہیں تو پوچھیں گے کہ یہ لوگ اچھے نہیں ہوں گے ، اس طرح ان کے دل سے ان رشتے داروں کی عظمت نکل جاتی ہے۔
❼ بچہ اگر کسی کی کوئی چیز اٹھا لائے تو اس پر کافی تنبیہ کرو، ورنہ چوری کی عادت پڑ جائے گی۔
❽ اگر بچہ محلے کے بچوں سے لڑے تو اپنے ہی بچے کو پہلے تنبیہ کرنا چاہئے۔

Comments
Post a Comment