یہ جملے اپنے بچوں سےہرگز مت کہیں۔
ہماری زندگی میں ہماری کامیابی، ناکامی اور خوشی ، غم کے پیچھے ایک چیز ہوتی ہے اور وہ چیز ہے ہمارے جملے۔
یہ جملہ ہماری زندگی کو جنت بھی بناتے ہیں اور جہنم بھی۔
ایک اچھا جملہ کئی دن آپ کو خوش رکھتا ہے اور ایک غلط جملہ کہیں دن تک آپ کو بے سکون رکھتا ہے۔
یہ جملے زندگی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں اور یہ اس وقت اور بھی اہم ہو جاتے ہیں جب ہم بچوں سے مخاطب ہوتے ہیں ۔ بچے کے دماغ چونکہ بلکل ایک نیا کینوس ہوتے ہیں اس لئے آپ کے جملے اس میں زندگی بھر کے لیے رنگ بھر دیتے ہیں اور یہ ہمیشہ بچوں کے دل و دماغ میں محفوظ ہو جاتے ہیں ۔اس لئے بچوں سے مخاطب ہوتے وقت اپنے الفاظ کے چناؤ اور جملوں کا خاص خیال رکھیں۔
آج کے دور میں بچوں کی اچھی تربیت کیسے کریں؟جہاں بچوں کی تربیت ضروری ہے وہی والدین کے لیے بھی کچھ باتئں سمجھنا اور سیکھنا ضروری ہیں۔اگرہم ان باتوں پر عمل کریں تو بچوں کی اچھی تربیت کر سکتے ہیں۔
آج جس عنوان پر ہم بات کریں گے “کہ کچھ ایسے جملے ہیں جو آپ اپنے بچوںآ سے ہرگز مت بولیں۔
ابھی میرے پاس وقت نہیں ہے۔( یہ جملہ سننے میں بہت عام ہے لیکن اس کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔ بچہ آپ کے پاس آتا یے تو آپ اپنا کام چھوڑ کر بچے کی بات ضرور سنیں اس طرح آپ کی تھوڑی سی توجہ بچے کی پریشانی کو کم کر سکتے ہیں۔ اس طرح والدین بچوں کو یہ بات سیکھا رہے ہیں کہ جب والدین بوڑھے ہو جائیں گے اور بچے جوان ہو تو والدین اس وقت کسی بھی کام کے سلسلے میں جب بچوں کو مخاطب کریں گے تو بچے آپ سے اس وقت اسہی جملے کے زیر اثر جواب دیں گےمثلا آپ بچوں کو کہیں گے کہ میری بات سنو۔ تو بچے بھی آپ کو یہی جواب دیں گے ۔لیکن اگر آپ ان کی بات سن لیتے ہیں تو کل وہ بھی آپ کی بات کو سنیں گے کیوںکہ آپ نے ان کو یہ ہی سیکھایا ہے۔)
تم نے اس کو برباد کر دیا ہے۔( اگر کوئی بچہ اپنا کوئی کھلونا توڑ دیتا ہے یا اس کو کھول کر دیکھتا ہے تو آپ اس کو ہرگز یہ جملہ مت کہیں ہیں اگر بچہ چیزوں کو کھول کر دیکھتھ ہے تو ظاہر سی بات ہے ان سے کچھ سیکھ رہا ہے لہذا یہ والا جملہ کہ تم نے اس کو برباد کر دیا ہے ہرگز نہ کہیں ورنہ بچےاس طرح نئی چیزیں سیکھنا چھوڑ دے گا۔)
تمہارا دھیان کہاں رہتا ہے / آپ کو بات سمجھ کیوں نہیں آتی۔( برائے مہربانی اس طرح کے جملے بولنے سے بھی گریز کریں کیونکہ بچہ بار بار غلطی کرتا ہے کیونکہ وہ بچہ ہے اور والدین اپنے بچے کو بار بار سمجھائیں گے ۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انسان کو نماز پڑھنے کی بار بار تاکید کی ہے۔ اس طرح سے ہم بھی اپنے بچوں کو کو بار بار کوئی بات سکھائیں گے تب ہی تو سیکھیں گے۔ ایک دو بار کوئی بھی بات یا کام سکھا دینے سے بچے اس کام میں مکمل ماہر نہیں ہو جاتے بلکہ ان کو اس کام میں پختگی کے لئے بار بار سیکھانا پڑتا ہے۔ لہذا ان بچوں کو بار بار بتانا پڑے گا۔ یہ جملے بولنے سے بچے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بچہ جب تک غلطی نہیں کرے گاتب تک نہیں سیکھے گا۔ غلطی پر اس کو سمجھائیں اور اس کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ بچوں کو کو بار بار یہ جملہ بول کر احساس کمتری کا شکار بنادیں۔
بچے پر تنقید مت کریں۔( تم پڑھائی میں اچھے نہیں ہوں، تمہاری لکھائی اچھی نہیں ہے، تم میں اخلاقیات نہیں ہے، نظم و ضبط نہیں ہے، بچہ یہ سب باتیں سن سن کر تنگ آ جاتا ہے ۔۔ بچے کی تعریف کریں اور وہ جس کام میں اچھا ہے اس کی تعریف کریں۔تعریف بچوں کو نکھارتی ہے۔
ہٹو میں خود کر لوں گی /گا۔(جب بچہ کوئی کام کر رہا ہوں اور وہ نہ کر پائے ۔ ابچے کو بار بار سمجھانا پڑے گا کیونکہ وہ بچہ ہے۔ اس طرح کے جملے بولنے سے بچے میں احساس کمتری پیدا ہوتی ہے۔
بچے بھائی/ کزن سے ہی کچھ سیکھ لو۔( بچوں کا موازنہ دوسرے بچوں سے کرنا چھوڑ دیں ۔ اس سے بچوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے جس کا نہ تو بچے کو پتہ چلتا ہے اور نہ ہی والدین کو۔ بچہ لا شعور میں کہیں اپنے بھائی /کزن کو ناپسند کرنا شروع کر دیتا ہے۔لہذا بچوں کو یہ طعنہ دیناچھوڑ دیں۔ ہر بچے کی اپنی شخصیت ہوتی ہے۔ بچے کو اس کی اپنی شخصیت نکھارنے میں۔ مدد کریں۔)
سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوتا ہے۔( بچے کو اس کی غلطی یہ کہنا کہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوتا ہے یعنی جب بھی کوئی کام خراب ہو تو بچے کو الزام دینا کہ تماری وجہ سے ہی کام خراب ہوتا ہے یہ انتہائی غلط بات ہے ۔اس سے بچہ زندگی بھر شرمندگی محسوس کرتا رہتا ہے اور اسی وجہ سے اس میں اعتماد پیدا نہیں ہوتا۔
اب تم پہلے جیسے نہیں رہے۔(جب بچہ کبھی روٹین کے مطابق کام نہ کرے تو اس کویہ مت کہیں کہ وہ اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ ہاں اس بچے کی سستی اور کاہلی کو جاننے کی کوشش کریں ۔ اور معلوم کریں کہ بچے کو کیا مسئلہ ہے۔ اور جہاں تک ہوسکے بچے کے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ بات کرنے سے بچے کو درپیش مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
میں نے تو پہلے ہی کہا تھا۔(جب بچا کوئی کام کرنے میں ناکام ہو جائے تو اس سے یہ جملہ کبھی بھی مت کہیں یہ بہت خطرناک جملہ ہے ہے اس سے بچے کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوتا ہے ۔آپ بچے کی پریشانی بچے کا ساتھ دیں اور اسے اس پریشانی سے نکالیں۔ اس طرح بچے کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے۔اور وہ آئندہ آیسی غلطی کرنے سے گریز کرے گا۔
نوٹ اگر ہم ان ہدایات پر عمل کریں توانشاءاللہ اپنے بچوں کی تربیت اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں۔



Comments
Post a Comment