کن ماؤں کے بچے کامیاب، قابل اور صحت مند زندگی گزارتے ہیں؟

کن ماؤں کے بچے  کامیاب، قابل اور صحت مند زندگی گزارتے ہیں؟ 

ہاروڈ یونیورسٹی  18 سال کی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر  پہنچی ہے کہ جو مائیں گرم جوش ہوتی ہیں ان کے بچے زیادہ کامیاب اور بھرپور زندگی گزار تے ہیں۔

 کیا کیا ہم مائیں پر جوش ہیں؟

 اگر ہمارے اندر یہ پانچ خوبیاں موجود ہیں   تو اس کا مطلب ہے کہ ہم پرجوش ہیں اور ہمارے بچے بھی کامیاب اور اور بھرپور زندگی گزاریں گے ۔لہذا  ایسی مائیں  جن کے اندر یہ خوبیاں نہیں ہیں  تو وہ کوشش کریں کہ آپ  ان خوبیوں کو اپنائیں اور  اپنے بچوں  کی بھرپور زندگی گزارنے کی تربیت کر سکیں۔

خوبیاںَ

  1. مائیں اپنے بچوں کی پرجوش تماشائی بنیں۔ ۔یعنی مائیں اپنے بچے کی شرارتوں میں اس کا ساتھ دیں اور اس کی خوشی میں خوش ہوں۔ بچوں پر بلاوجہ تنقید مت کریں۔ اور ان کو ان کی شرارتوں سے بار بار منع  بھی  نہ  کریں۔اس طرح ان کی خود اعتمادی میں کمی آجاتی ہے۔

  2.   بچوں کو محبت کے ساتھ عزت بھی دیں۔

 بچے کی بھی عزت نفس ہوتی  ہے۔ جب ہم بچے کی  عزت کریں گے تو اس طرح بچے  کو ہم دوسروں کی عزت کرنا سیکھا رھے ہوتے ہیں۔اگر ہم بچے کی عزت نہیں کرتے تو کل بچہ بھی ہماری  عزت نہیں کے گا۔

  1. بچوں کو محبت کا احساس دلائیں۔

 ہر انسان کو محبت کے اظہار کی ضرورت ہوتی ہے۔اس طرح  بچوں کو بھی اظہارکی  ضرورت ہوتی ہے۔ بچے والدین کے  اس اظہار کے محتاج ہوتے  ہیں۔ اس محبت کے اظہارکی  بچے کو عمرکے ہر حصے میں اور زندگی کے ہر پہلوں میں ضرورت ہوتی ہے۔

  1.  محبت اور سختی میں اعتدال کریں ۔

آپ نے جو بچوں کی زندگی کے اصول بنائے ہیں ان پر سختی سے عمل کریں۔


جب آپ نے بچوں کا جو وقت مقرر کیا ہے  بچہ جب تک اپنا ہوم ورک مکمل نہ کر لے اس کو ہرگز کھیلنے  کی اجازت نہ دیں۔۔ماؤں کو اپنے ان اصولوں پر پر اتنا  پختہ ہونا چاہئے کہ بچہ  یہ بات جان لے کے جب تک وہ ہوم ورک مکمل نہیں کرے گا تب تک اس کو کھیلنے کی اجازت نہیں ملے گی۔اگر کہیں ماں  تھوری نام پڑ  گئی   تو وہ کبھی بھی  بچے سےاپنی بات نہیں منوا سکتی۔

  1.   بچوں پر بھروسہ کریں۔

 والدین کو بچوں کو اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا سیکھانا چاہیے ۔اگر بچہ کہے کہ میں پڑھ نہیں سکتا تو اس بچے کی اس بات پر پر بلکل اعتبار نہ کریں، بلکہ اس کی پڑھنے میں میں مدد کریں ، جہاں بچے کو مشکل پیش آ رہی ہو اس کی مشکل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔  اور بچے کے لیے  ایسے مواقع فراہم کریں  جس سے اس کی مشکل حل ہو سکے۔

Comments

Post a Comment