آج کے دور میں والدین کی سب سے بڑی پریشانی

آج کے دور میں والدین کی سب سے بڑی پریشانی 


 بچے ہماری بات نیہں سنتے۔


 والدین اگر یہ چار کام چھوڑ دیں اور پانچ کام اپنی ذندگی میں لے آئیں تو بچوں سے اپنی ہر بات منوا سکتے ہیں

  • بچوں کو دھمکانہ چھوڑ دیں۔         

( آپ کی پاپا سے شکایت کروں گی، آپ کا کھیلنا بند،باھر جانا بند،وغیرہ وغیرہ)


  • بچوں کو غیر حقیقی دمکیاں دینا چھوڑ دیں۔  
(آپ کو نانوں کے غھر نہیں لے کے جاؤں گی، آپ کو موبایل نہیں ملے گا،وغیرہ وغیرہ ) 

  • بچوں سے غیر ضروری بحث کرنا  چھوڈ دیں۔    
( آپ جب بھی بچے کو کام کا کہیں تو وہ بحث شروع کر دیتے ہیں، جیسے بھائی کو بھی کام کا کہیں،چھوٹی بہن کو بھی کہیں،میں نے پہلے بھی کام کیا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔)

 

  • بچوں پر چیخنا چلانا چھوڈ دیں۔

 والدین یہ پانچ کام اپنی ذندگی میں لے آئیں تو بچوں سے اپنی ہر بات منوا سکتے ہیں۔

  • بچوں کے ہر کام کی روٹین بنائیں۔  
( سونا، جاگنا، پڑھنا، کھیلنا، کھانا،ٹی وی، کمپیوٹر)

  • بچے و اپنی طرف متوجہ کرنے کے بعد  بچوں کو کام کہیں۔ 



  • بچے کو ضروری کام کے لیے ہی آواذ دیں۔  
 ( یہ نہیں جب بچہ آپ کے پاس آئے تو آپ کام بھول جائیں،یا پاس ہی پڑی ہوئی چیز پکڑانے کا کہیں۔)

  • بچوں کو کام کرنے کا پوچھیں نہیں بلکہ کام کرنے کا کہیں۔   
 ( جیسے کیا تم اپبا کمرہ صاف کرلو گے؟یہ غلط ہے۔ بلکہ آپ کہیں۔اپنا کمرہ صاف کرو۔


  • بچوں کی حوصلہ افزائی،تعریف  ضرور کریں۔


ہم والدین کی حیثہت سے ان چند باتوں پر عمل کر کے اپنی اور بچوں کی  ذندگی کو آسان بنا سکتے  ہیں۔

اپنا خیال رکھیں اور ہمیں دعاؤں میں یاد رکھیں۔

Comments

Post a Comment